زبان درازی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گستاخی، بد زبانی، بد لگامی، بے ہودہ گوئی۔ "اقبال بہت سے اتہام اور زبان درازیوں کی تردید چاہتے ہوں گے۔"      ( ١٩٧٥ء، توازن، ٢١١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زبان' کے ساتھ فارسی اسم صفت 'دراز' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'زبان درازی' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گستاخی، بد زبانی، بد لگامی، بے ہودہ گوئی۔ "اقبال بہت سے اتہام اور زبان درازیوں کی تردید چاہتے ہوں گے۔"      ( ١٩٧٥ء، توازن، ٢١١ )

جنس: مؤنث